Mon. Jun 17th, 2019

یونان کا جرمنی سے 290 ارب یورو بطور ہرجانہ طلب کرنے کا فیصلہ

ایتھنز(این این آئی)یونان کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ نازی جرمنی کی جانب سے دوسری عالمی جنگ کے دوران کیے جانے والے خوفناک جنگی جرائم اور یونان کو پہنچنے والے بے پناہ مالی نقصانات کے ازالے کیلئے جرمنی سے سینکڑوں ارب یورو بطور ہرجانہ طلب کیا جائیگا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یونان کی پارلیمنٹ کے فیصلے کے تحت دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے 70 سال سے بھی زائدعرصے کے بعد جرمنی سے باضابطہ مطالبہ کیا جائیگا کہ برلن ایتھنز کوسینکڑوں ارب یورو بطور زر تلافی ادا کرے۔عالمی میڈیا کے مطابق یونان کی پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر کیا ،ایوان میں مسودہ قرارداد پارلیمانی اسپیکر نیکوس وْوٹسِس نے پیش کیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے تمام سفارتی اور قانونی اقدامات کرے جو جرمنی سے مالی ازالے کی وصولی کیلئے ناگزیر ہوں۔یونان کی پارلیمنٹ میں پیش کردہ قرار داد کے مطابق ابتدا میں یونان جرمنی سے یہ مطالبہ زبانی طور پربذریعہ سیاسی قیادت کرے گا۔یونان کے وزیر اعظم الیکسس سپراس نے اس ضمن میں پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی سے اس زر تلافی کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا ہمارا ایسا تاریخی اور اخلاقی فرض ہے جس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی جا سکتی ہے۔وزیراعظم کے مطابق ایتھنز کے اس مطالبے کا یونان کو درپیش مالیاتی بحران سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یونان کی یہ خواہش ہے کہ اس طرح اس کے ذمے واجب الادا کئی سو ارب یورو کے قرضوں کی واپسی کے عمل کو تیز تر کیا جا سکے۔الیکسس سپراس نے یہ دعویٰ کیا کہ مالیاتی بحران کے سلسلے میں بین الاقوامی بیل آؤٹ پیکجز کے بعد اب وہ مناسب ترین وقت ہے کہ یونان جرمنی سے اس زر تلافی کی ادائیگی کا مطالبہ کرے۔یونان کے وزیراعظم سپراس 2015 کے پارلیمانی الیکشن میں یونانی عوام سے جن وعدوں کے بعد برسر اقتدارآئے تھے ان میں یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ وہ اپنے ملک کے عوام کو دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمن دستوں کی طرف سے کی گئی زیادتیوں اور جنگی جرائم کی تلافی کے لیے ازالے کی رقوم دلوائیں گے۔یونان کے اس مطالبے کے متعلق حکومتی ترجمان اشٹیفن زائبرٹ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو اس بارے میں بہت افسوس ہےاور گہرا احساس جرم بھی کہ نازی دور میں جرمن دستوں نے یونان پر قبضے کے وقت وہاں کیا کیا ظلم ڈھائے تھے؟ لیکن اس کے با وجود کسی مالی ازالے کی ممکنہ ادائیگی سے متعلق جرمن حکومت کی سوچ اب بھی وہی ہے جو پہلے تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *