Wed. Jul 17th, 2019

غزل گائیک اقبال بانو کو گزرے دس برس بیت گئے

لاہور: پاکستان کی معروف غزل گائیک و گلوکارہ اقبال بانو کو مداحوں سے بچھڑے 10 برس بیت گئے‘ ان کی آواز میں گایا فیض احمد فیض کا کلام ’ہم دیکھیں گے‘ آج بھی پاکستان کے عوام دلوں کی آواز ہے۔

بھارت کے شہر نئی دلی میں سن1935 میں پیدا ہونے والی اقبال بانو کو بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤتھا جسے پروان چڑھانے میں ان کے والد نے اہم کردارادا کیا، انتھک محنت اور باقاعدہ تربیت کے بعد موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنے والی اقبال بانو نے جو گایا کمال کردیا۔

انہوں نے موسیقی کی تربیت استاد چاند خان سے حاصل کی اور1950 میں اپنی فنی زندگی کا آغاز آل انڈیا ریڈیو سے کیا۔ 1952 میں شادی کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ پاکستان آئیں اور پنجاب کے شہر ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی بعد ازاں شوہر کی وفات ہوئی تو آپ اہل خانہ کے ہمراہ لاہور منتقل ہوگئیں۔

اقبال بانو کوغزل گائیکی کے ساتھ ساتھ کلاسیکل، نیم کلاسیکل، ٹھمری اوردادھرہ میں بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔ وہ اردو، پنجابی ، فارسی زبانوں پر مکمل عبور رکھتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مختلف زبانوں میں حاصل ہونے والی خصوصی مہارت سے دنیائے موسیقی میں نمایاں مقام حاصل بنایا۔

انہوں نے گمنام ، قاتل ، انتقام، سرفروش، عشق لیلی اور ناگن جیسی سپرہٹ فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا جبکہ  فلم قاتل میں ان کی آواز میں گایا ہواگیت ’’پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے، تولاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے‘‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔

انہیں 1990 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ اقبال بانو 21اپریل 2009 کو 74 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد جہانِ فانی سے کوچ کرگئی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *