Mon. May 27th, 2019

نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد، گرفتاری دینا ہوگی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے 6 ہفتوں کی ضمانت میں مزید توسیع کے لیے دائر کی گئی درخواست مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیرون ملک علاج اور ضامنت میں توسیع سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت میں توسیع کی ضرورت ہو تو ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ نے زبانی حکم میں کہی تھی، تحریری فیصلے میں ایسی بات نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں یاد ہے ہم نے یہ آبزرویشن دی تھی، ہم مستقبل کی پیش گوئی نہیں کرسکتے اس لیے فیصلے میں نہیں لکھا، یہ آپ پر منحصر ہے آپ اپنے مؤکل کو کیا مشورہ دیتے ہیں۔ آپ کے مؤکل کے پاس بہت سے آپشن ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی حالت ابھی تک بہتر نہیں ہوئی، فیصلے کے مطابق دوبارہ گرفتاری کے بغیر وہ درخواست ضمانت نہیں دے سکتے۔

بعد ازاں درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ضمانت علاج کے لیے دی تھی، آپ نے ٹیسٹ پر صرف کردی۔ ہم تو یہ سمجھیں گے ان کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔

عدالت نے ڈاکٹر عدنان کی نواز شریف سے خط و کتابت پر سوال بھی اٹھا دیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سزا کی معطلی اور ضمانت پر رہائی کوئی انہونی بات ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست مسترد ہونے کے بعد نواز شریف کو اب دوبارہ ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرنا ہوگا، نواز شریف کو دوبارہ ضمانت کے لیے گرفتاری بھی دینا ہوگی۔

خیال رہے کہ نواز شریف نے 6 ہفتوں کی ضمانت میں توسیع کے لیے دائر درخواست میں استدعا کی تھی کہ نظر ثانی درخواست پر فیصلہ ہونے تک عبوری ضمانت میں توسیع کی جائے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی 6 ہفتوں کی عبوری ضمانت کی مدت 7 مئی کو ختم ہو رہی ہے جبکہ انہوں نے 26 مارچ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ گزشتہ برس 24 دسمبر کو سنایا گیا تھا، فیصلے میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں مجرم قرار دیتے ہوئے 7 سال قید اور جرمانے کا حکم سنایا تھا جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کر دیا گیا تھا۔

26 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے انہیں 6 ہفتے کے لیے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے سزا معطل کردی تھی تاہم ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں 50 لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا بھی حکم دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *