Wed. Jul 17th, 2019

کینسر ٹریٹمنٹ کے بعد رشی کپور کا جذباتی پیغام

کینسر جیسے موذی مرض کی تشخیص خوفناک ہے ہی لیکن بیماری سے ریکوری کا عمل اس زیادہ تکلیف دہ ہے، یہ صرف اُس صورت میں آسان ہوتا ہے جب آپ کے چاہنے والوں اور مدد، سپورٹ اور محبت آپ کے ساتھ ہو، عموماًیہ آپ کی فیملی ہوتی ہے۔

بھارتی اداکار رشی کپور ان دنوں اپنی اہلیہ نیتو سنگھ کے ساتھ نیویارک میں ہیں جہاں ڈاکٹرز نے اُنہیں کینسر فری قرار دے دیا گیا ہے۔

طویل عرصے تک رشی کپور یا اُؑن کی فیملی نے پراسرار بیماری کی تصدیق نہیں کی تھی تاہم بعض ذرائع نے اشارہ دیا تھا کہ اُنہیں کینسر کا مرض لاحق ہے۔

کئی ماہ بعد اب رشی کپور کے دوست اور فلم میکر راہول روائل نے اعلان کیا کہ رشی کپور کو کینسر فری قرار دے دیا گیا ہے اور وہ واپس بھارت آرہے ہیں۔

ایک انٹرویو میں رشی کپور نے انکشاف کیا ہے کہ ابھی اُن کا بون میرو ٹرانسپلانٹ ہونا ہے اور وہ دو ماہ بھارت واپس آئیں گے۔

بھارتی اداکار نے ایسے مشکل وقت میں کا کسی کے ساتھ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی فیملی کی سپورٹ پر انتہائی مشکور ہیں۔

رشی کپور کا کہنا ہے کہ ’’نیتو ایک چٹان کی طرح میرے ساتھ کھڑی ہیں، ورنہ کھانے پینے کے معاملے میں مجھے ہینڈل کرنا بہت مشکل کام ہے، میرے بچے رنبیر اور ردھیما نے حقیقت میں میرا ساتھ دیا‘‘

کینسر کی تشخیص کو زندگی تبدیل کرنے والا تجربہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کٹھن وقت سے گزرنا بہت مشکل تھا۔

بھارتی اداکار کا کہنا ہے کہ امریکا میں میری ٹریٹمنٹ کا آٹھواں مہینہ یکم مئی کو شروع ہوچکا ہے اور مرض میں افاقہ ہے یعنی میں اب کینسر فری ہوں۔

مرض میں افاقہ ہونا بڑی بات ہے اور یہ سب میری فیملی اور مداحوں کی دعاؤں کی وجہ سے ہوا ہے، جس پر میں سب کا شکرگزار ہوں۔

رشی کپور کا کہنا ہے کہ’’ میرے جیسا شخص جس نے کبھی صبر نہیں کیا، صبر سکھانے کا خدا کا انداز ہے، صحتیابی سست رفتار عمل ہے لیکن یہ آپ کو زندگی کے تحفے کے لئے شکر گزار بناتا ہے‘‘

واضح رہے کہ رشی کپور نے گزشتہ سال ستمبر میں ایک ٹوئٹر پیغام سے پریشانی میں مبتلاکردیا ، جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’’میں کام سے مختصر رخصت لے رہا ہوں اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے امریکا جارہا ہوں، میرے خیرخواہ پریشان نہ ہوں اور غیر ضروری قیاس آرائی نہ کریں، آپ کے پیار اور دعاؤں سے میں جلد واپس آؤں گا‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *