Wed. Jul 17th, 2019

ایک پاکستانی کمپنی سمیت 12 افراد و ادارے، امریکی پابندی فہرست میں شامل

واشنگٹن: ایک پاکستانی کمپنی کو 12 غیر ملکی افراد و اداروں سمیت اس امریکی فہرست میں درج کرلیا گیا ہے جس میں انہیں محدود آئٹم کی مبینہ تجارت کے لیے مخصوص لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

امریکی محکمہ کامرس کے بیان کے مطابق اس طرح کی پابندیوں کا مقصد ’اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حساس ٹیکنالوجی ان کے ہاتھ نہ لگے جو امریکی سلامتی یا امریکی شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ پابندی کا شکار پاکستان کمپنی کا نام اور مقام کی معلومات نہیں دی گئی۔

بیان کے مطابق فہرست میں درج مجموعی کمپنیوں میں سے 4 کا مقام چین اور ہانگ کانگ اور مزید 2 چینی ایک پاکستانی اور 5 اماراتی افراد شامل ہیں۔

محکمہ کامرس کے بیورو برائے انڈسٹری اور سیکیورٹی (بی آئی ایس) کا کہنا تھا کہ فہرست میں درج غیر ملکی پارٹیز کو برآمدات اور دوبارہ برآمدات یا ملک میں محدود اشیا کی منتقلی کے لیے مخصوص لائسنس کی ضرورت ہوگی۔

امریکی بیان کے مطابق اس فہرست میں پاکستانی کمپنی کی شمولیت مبینہ طور پر ’ملک کی غیر محفوظ جوہری سرگرمیوں کی لیے کنٹرولڈ ٹیکنالوجی کے حصول‘ پر کی گئی۔

بیان میں ان کمپنیوں کے ناموں کا تذکرہ نہیں کیا گیا جو فہرست میں درج کی گئیں لیکن جو تنظیم کا افراد ان پابندیوں کی خلاف ورزی کریں گے انہیں مجرمانہ سزاؤں اور انتظامی پابندیوں کا سامنا ہوگا۔

اس سلسلے میں امریکی سیکریٹری کامرس ولبر روز کا کہنا تھا کہ ہر اس اقدام سے سختی سے نمٹے گی جو امریکی شہریوں یا ملک کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے دنیا بھی میں افراد، کاروبار اور تنظیموں کو نوٹس دیے گئے ہیں جس کے مطابق ایران کی مبینہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) سے منسلک سرگرمیوں اور دیگر غیر قانونی اسکیموں کی معاونت کرنے پر ان کا احتساب کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ 4 اماراتی افراد کو بغیر لائسنس کے ایک غیر تسلیم شدہ ادارے ماہان ایئر اور ایک ایسے ادارے کے لیے امریکا سے تعلق رکھنے والی اشیا حاصل کرنے پر شامل کیا گیا جو پہلے ہی اس فہرست کا حصہ تھا۔

اس کے ساتھ ایک اور فرد شخص جس نے بیورو برائے انڈسٹری اور سیکیورٹی کی نگرانی کی حمایت کرنے سے انکار کردیا تھا، اور یہ اقدام اس شخص کے اس فہرست میں اندراج کا باعث بنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *