Wed. Jun 19th, 2019

امریکہ ایران جنگ کے دھانے پر،خلیج فارس سے گزرنے والے مسافر طیاروں کے نشانہ بننے کا خدشہ

دبئی : امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد ایئر سیفٹی کی وارننگ کے باوجود متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ایئرلائنز نے معمول کے مطابق اپنے آپریشنز جاری رکھی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی سفارتکاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ خلیج فارس سے گزرنے والے مسافر طیارے خطے میں کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے ایرانی فوج کی جانب سے ‘غلطی یا غلط پہچان کی صورت میں نشانہ بنائے جاسکتے ہیں۔اتحاد ایئرویز، الامارات اور فلائی دبئی نے اتوار کے روز بتایا کہ انہوں نے اپنی پرواز کے منصوبوں میں
کوئی تبدیلی نہیں کی جبکہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھ رہے ہیں۔الامارات کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے فلائیٹ آپریشنز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، ہم متعلقہ متحدہ عرب امارات اور عالمی حکام سے رابطے میں ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ایئر لائن نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے آپریشنز کی حفاظت سب سے اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔اتحاد کا کہنا تھا کہ وہ بھی یو اے ای کے جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور عالمی سطح پر ایئر نیوی گیشن سروس فراہم کرنے والے ادارے سے رابطے میں ہیں۔فلائی دبئی کے ترجمان نے کہا کہ پائلٹ بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ راستوں پر جہاز اڑا رہے ہیں، ہمیں خدشات کے بارے میں علم ہے اور ہم صورتحال کا جائزہ لے کر ہمارے ریگولیٹر سے رابطہ جاری رکھیں گے۔سعودی عرب کے حکام کی جانب سے یہ اعلان ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ملک کی تیل کمپنی پر ڈرون حملے اور متحدہ عرب امارات کے ساحل پر تیل بردار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان حملوں کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔خدشات میں کہا گیا کہ ایران کا مسافر طیارے کو نشانہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن کشیدگی کی صورتحال میں متعدد دور تک ہدف کا نشانہ بنانے والے اور جدید اینٹی ایئرکرافٹ کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں کی موجودگی میں غلطی یا غلط شناخت کرکے مسافر طیارے پر حملے ہونے کا خدشہ ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ طیاروں کے نیوی گیشن آلات کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس میں بغیر اطلاع دیے رابطہ منقطع کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *