Wed. Jun 19th, 2019

ایسٹر دھماکوں کے بعد نفرت انگیز حملوں پر مسلمان وزرا ء سمیت 9 مسلم اراکین پارلیمنٹ نے مستعفی ہوتے ہوئے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

کولمبو : سری لنکا کے مسلمان وزرا سمیت 9 مسلم اراکین پارلیمنٹ نے ایسٹر دھماکوں کے بعد ملک بھر میں اپنی برادری کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز حملوں پر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صدر میتھری پالا سریسینا کے حامی رکن اسمبلی کی جانب سے سرفہرست تین مسلمان سیاست دانوں کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے بعد 9 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا ہے جن میں کئی وزرا ہیں۔رپورٹ کے مطابق مقامی مذہبی لحاظ سے مرکزی شہر کینڈی میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا تھا اور مذہبی رہنما اتھرالیے رتنا نے دو صوبوں کے گورنروں اور کابینہ کے ایک رکن کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد کا تعلق مبینہ طور پر ایسٹر بم حملوں کے ذمہ داروں سے تھا۔سری لنکا کے صدر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کولمبو کے مشرقی علاقے میں دکانیں اور دفاتر بھی بند رکھے گئے تھے اور دو صوبوں کے گورنروں نے بھی استعفیٰ دے دیا۔بعدازاں چند گھنٹوں میں مرکزی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 9 مسلمان اراکین پارلیمان نے استعفیٰ دے دیا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسٹر حملوں کی آزادانہ تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عہدے چھوڑ رہے ہیں۔مستعفی 9 اراکین میں وزیر تجارت رشاد بدیع الدین بھی شامل ہیں جن کی معطلی کو مذہبی پیشوا نے مطالبہ کیا تھا۔مسلمان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ جب سے ایسٹر دھماکوں کی ذمہ داری مسلم انتہاپسندوں پر عائد کی گئی ہے اس وقت سے ان کی برادری تشدد، نفرت انگیز تقاریر اور تعصب کا نشانہ بنی ہے۔وزیر پانی روئوف حکیم کا کہنا تھا کہ مسلمانوں نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کیا لیکن برادری کو مشترکہ طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پھیلانے والوں کو تحفظ دینے کے رویے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔وزیر نے استعفیٰ دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اپنے عہدوں کو اس امید پر چھوڑ رہے ہیں کہ حکام ان کی برادری کے ارکان پر لگائے گئے الزامات کی مکمل تفتیش ایک مہینے میں کرا دیں گے۔مستعفی وزرا نے مشترکہ بیان میں کہا کہ استعفیٰ دینے والے تمام وزرا وزیراعظم رانیل وکرامے سنگھے کی حکومت کی حمایت بدستور جاری رکھیں گے۔یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں کولمبو میں ایسٹر کے موقع پر گرجاگھروں میں حملے کیے گئے تھے جہاں عبادت میں مصروف 300 سے زائد افراد مارے گئے تھے جس کے بعد پولیس نے بھرپور کارروائیاں شروع کردی تھیں۔حکام نے حملوں کی ذمہ داری مسلم انتہاپسندوں پر عائد کرتے ہوئے انہیں ایک مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ مسلم مخالف احتجاج شروع کیا گیا تھا کینڈی کے کئی علاقوں میں تین افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا اور 20 سے زائد مسلمان زخمی ہوگئے تھے۔مسلم مخالف مظاہروں کے دوران مسلمانوں کے 200 سے زائد گھروں اور دکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے اور حکومت نے ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *