Fri. Aug 23rd, 2019

آشیانہ اقبال سکینڈل کیس ! شہبا زشریف نے بڑا اعلان کر دیا

لاہور: احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال سکینڈل کیس کی سماعت 7اگست تک ملتوی کر دی جبکہ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ خدائے بزرگ و برتر کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ یہ جھوٹا کیس ہے۔ احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج وسیم اختر نے کیس کی سماعت کی۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف عدالت کے رو برو پیش ہوئے جبکہ فواد حسن فواد سمیت دیگر ملزمان کو بھی پیش کیا گیا ۔شہباز شریف نے عدالت کے رو برو موقف اپنایا کہ انتہائی نیک نیتی محنت اور لگن سے
اس صوبے کی خدمت کی،خدائے بزرگ و برتر کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ یہ جھوٹا کیس ہے،یہ کیس وقت کا ضیاع ہے جھوٹ کا پلندہ ہے ۔میں نے اور میری حکومت نے فراڈ پکڑا،جنہوں نے فراڈ کیا ان کو بی آر ٹی پشاور کا ٹھیکہ دے دیا گیا،بی آر ٹی کا ٹھیکہ بلیک لسٹڈ کمپنی کو دیا گیا ،اس کمپنی کو میری حکومت نے بلیک لسٹ کیا تھا،فراڈ کرنے والی کمپنی کو پشاور میں شاہی مہمان بنایا گیا۔نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ شہباز شریف کا عدالت میں بیانیہ وقت کا ضیاع ہے ، کارروائی آگے بڑھانی چاہیے۔ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ وقت آپ ضائع کر رہے ہیں ۔ جج نے آشیانہ ہاوسنگ سکینڈل کیس کی سماعت 7اگست تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرمزیدگواہوں کو شہادتوں کے لئے طلب کر لیا۔شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد اظہار یکجہتی کے لئے موجود تھی ۔دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بے بنیاد کیسز کے ذریعے عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے،آشیانہ اقبال میں جنہوں نے کرپشن پکڑی انہیں ہی مجرم کہا جارہا ہے اور اس سے بڑ ا ظلم او رزیادتی اور کیا ہو گی ۔عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کے ساتھ جیل میں ظلم ہو رہا ہے،جیلوں میں قید ہمارے رہنمائوں کا گھر کا پرہیزی کھانا بند کر دیا گیاہے ، ادویات تاخیر سے دی جا رہی ہیں،جیل مینوئل کے مطابق ملاقاتیں محدود کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچیس جولائی کو ہر صورت حکومت کیخلاف جلسہ کریں گے اور اللہ کے فضل سے لاہور کا جلسہ کامیاب ہو گا،جلسے میں کتنی بڑی تعداد میں لوگ آئیں گے، کچھ نہیں کہہ سکتا،عوام مسلم لیگ (ن) او رنواز شریف کے ساتھ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *