Fri. Aug 23rd, 2019

‘بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم’

اسلام آباد: قومی سلامتی کمیٹی نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے، بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال غور کیا گیا۔

اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او اور دیگر حکام شریک ہوئے۔

ابھی ابھی۔۔۔فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

اجلاس کے اعلامیے میں 5 فیصلوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں:

1۔ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ

2۔ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کی جائے۔

3۔ دوطرفہ معاہدوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ

4۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ

5۔ 14 اگست کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے اور 15 اگست کو  یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بھارت کی بہیمانہ نسلی نظریات پر مبنی پالیسیاں عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو پاکستان نے مسترد کردیا ہے، اس صورتحال میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی جاری ہے۔ 

دوسری جانب اس معاملے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس بھی گزشتہ روز ہوئی جس میں شرکاء نے بھارتی اقدامات مسترد کرنے کے حکومتی فیصلے کی بھرپور تائید کی اور مسئلہ کشمیر پر بھارتی اقدامات مسترد کرنے کے حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کی گئی۔

خیال رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اتوار کو بھی ہوا تھا جس میں ملکی اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے شرکت کی تھی۔ 

قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بھارتی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال انتہائی خراب ہورہی ہے اور بھارتی عزائم داخلی و خارجی سطح پر عیاں ہوچکے ہیں، بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے پریشانی میں پُرخطر آپشنز اختیار کرسکتا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی فوج جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے، بھارتی عزائم خطے میں تشدد بڑھا کر اسے فلیش پوائنٹ بناسکتے ہیں، بھارت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ کر تنازعے کے پرامن حل کی طرف بڑھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *