Wed. Jun 19th, 2019

انتہائی شرمیلا نوجوان ، جو 10 دن تک مارا مارا پھرتا رہا لیکن کسی سے اپنے گھر کا راستہ نہ پوچھ سکا

شرمیلے پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے لیکن ملایشیا سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ زہانگ ڈامنگ نے تمام حدیں عبور کر دی۔ زہانگ صاحب سنگا پور میں گم ہو کر  دس دن تک اِدھر اُدھر مارے مارے پھرتے رہے  مگر  کسی سے بھی اپنے رہائشی ااپارٹمنٹ کا پتا نہ پوچھ سکے۔
زہانگ پچھلے ماہ کام کی تلاش میں ملایشیا سے سنگا پور آئے تھے۔ وہ ایک دوست کے ساتھ اپارٹمنٹ میں مل کر رہ رہے تھے۔زہانگ کے غائب ہونے سے پہلے اُن کے روم میٹ نے انہیں کھانے کے لیے50 سنگاپوری ڈالر (37 امریکی ڈالر) دئیے اور اپنے کام پر چلے گئے۔ زہانگ کے پاس کچھ ملایشین رنگٹ بھی تھے۔  انہوں نے قریبی مارکیٹ سے دوپہر کا کھانا کھایا لیکن اپارٹمنٹ سے یہاں تک آنے کا رستہ یاد نہ رکھ سکے۔ کھانا کھانے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ وہ اپنے دوست کے اپارٹمنٹ تک پہنچنے کا راستہ بھول چکے ہیں۔
زہانگ نے بعد میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ کھانا کھانے قریبی کیفے میں گئے تھے لیکن وہ واپسی پر اپنے دوست کا ااپارٹمنٹ تلاش نہ کر سکے، انہیں سب اپارٹمنٹس ایک جیسے لگ رہے تھے، اس لیے وہ پریشان ہوگئے۔ 
زہانگ اپنا فون، پاسپورٹ اور ملایشین کرنسی اپنے اپارٹمنٹ میں ہی چھوڑ گئے تھے، اس لیے معاملہ زیادہ گھمبیر ہو گیا تھا۔ وہ اپنے دوست کو فون کر کے مدد بھی نہیں مانگ سکتے تھے۔

 زہانگ نے بتایا کہ وہ بہت شرمیلے ہیں، وہ سنگا پور کے لوگوں کے مزاج کے بارے میں نہیں جانتے تھے، اس لیے وہ اُن سے مدد یا موبائل فون ادھار مانگتے ہوئے ڈر گئے۔ انہیں کوئی پولیس اسٹیشن بھی نظر نہیں آیا۔ اس کے بعد بجائے مقامی افراد سے مدد مانگنے کے زہانگ اگلے دس دن تک شہر میں مارے مارے پھرتے رہے۔ وہ رات کو اپارٹمنٹ بلڈنگز کے ساتھ سو جاتے، شاپنگ مالز کے ٹوائلٹ استعمال کرتے اور اپنے دوست کی دی ہوئی رقم سے سستے چاول خرید کر گزارا کرتے۔
زہانگ نے بتایا کہ پہلے 24 گھنٹے تو وہ جاگتے ہی رہے۔ آٹھویں دن پیسے ختم ہونے پر حالات مزید پریشان کن ہوگئے۔ اس کے بعد کے دو دن زہانگ نے بھیک مانگ کر گزارا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فاقے کرنے لگے تھے، اس لیے مجبوراً بھیک بھی مانگنی پڑی لیکن وہ ہر کسی سے نہ مانگ سکے۔ دو دونوں میں انہوں نے چھ یا سات افراد سے پیسے مانگے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ مہربان انکل اور آنٹیوں نے انہیں ایک یا دو ڈالر دئیے۔اس رقم سے وہ پانی ہی خرید سکتے تھے۔ خوش قسمتی سے انہیں مزید فاقے نہیں کرنے پڑے۔ ان کی گمشدگی کے اعلانات ہوچکے تھے۔ 6 جنوری کا ایک شخص نے انہیں شناخت کر کے حکام کو اطلاع دے دی۔ حکام نے زہانگ کو ان کے اپارٹمنٹ کی بلڈنگ سے 6 کلومیٹر دور کھیل کے میدان سے دریافت کر لیا۔ اُن کے روم میٹ نے ان کے غائب ہونے کے دن ہی اُن کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرا دی تھی۔
دو دن پہلے زہانگ کو کوالالمپور جانے والی بس پر سوار کرا دیا گیا ہے۔ انہوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ گمشدگی کے خطرے کی وجہ سے وہ واپس سنگا پور نہیں آئیں گے۔
یہ کہانی سنگا پور اور ملایشین سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ انٹرنیٹ صارفین نے اس کے سچ ہونے پر اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی راستہ پوچھتے ہوئے تو شرمائے لیکن بھیک مانگنے لگ جائے۔ بہت سے صارفین نے ان کے شرمیلے پن پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *