Tue. May 21st, 2019

پاکستانی نژاد امریکی شیف فاطمہ علی کی اپنے چاہنے والوں کے لیے آخری تحریر

نیویارک : پاکستانی نژاد امریکی شیف فاطمہ علی کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے لڑتے گذشتہ ہفتے زندگی کی بازی ہار گئیں۔ شیف فاطمہ علی کی وفات کے بعد ان کی لکھی گئی آخری تحریر منظر عام پر آ گئی ہے جس نے سب کو آبدیدہ کر دیا۔ 29 سالہ شیف فاطمہ نے اپنی آخری تحریر میں اپنی بیماری سے لڑنے اور اس سے حاصل ہوئے تجربے کے بارے میں بات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خوابوں سے متعلق بھی بتایا ۔اپنی اس آخری تحریر میں شیف فاطمہ نے بتایا کہ مجھے زندگی میں بہت سے کام کرنے تھے لیکن اب میں کینسر کو عذر کے طور پر استعمال کرتی ہوں۔ میری زندگی کا مقصد زندگی کو مکمل طور پر جینا ہے اور اپنے اُن تمام خوابوں کو پورا کرنا ہے جو میں نے کبھی دیکھے تھے۔

کئی دن گھر پر رہ کر ، بیڈ پر لیٹ کر نیٹ فلکس دیکھنا بہت آسان ہے، میں یہ سب کچھ کر سکتی ہوں اور کرتی بھی ہوں۔لیکن اب میں اور بھی بہت کچھ کر رہی ہوں، میں اپنی چھُٹیوں کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہوں، میں کھانا بنا رہی ہوں، میں لکھ رہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بیماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ایمانداری سے بتاؤں تو پہلی کیمو تھیراپی تک آپ کو لگتا ہے کہ شاید کینسر آپ کو زیادہ نقصان نہیں پہنچائے گا۔ لیکن کیمو کے بعد جب آپ کے بال گرنا شروع ہو جائیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ تو واقعی ہو رہا ہے، میری ساری زندگی اب یہی ہو گا۔میں نے کیمو کے 8 راؤنڈز مکمل کیے، یہ سب بہت تکلیف دہ تھا لیکن بالآخر میرے تمام اسکینز کلئیر ہوئے۔ میں نے سوچا کہ میں نے کینسر کو شکست دے دی ہے لیکن میں دوبارہ پہلے سے زیادہ بُری طرح کینسر کا شکار ہو گئی۔ کینسر سے میرے پھیپھڑے بھی متاثر ہو گئے اور پھر ڈاکٹرز نے مجھے آگاہ کیا کہ میں صرف ایک سال ہی زندہ رہ سکتی ہوں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر شیف فاطمہ نے آخری پوسٹ 11 جنوری کو کی تھی جس میں انہوں نے اپنی ایک تصویر شئیر کی اپنے لیے دعا کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

یاد رہے کہ کینسر کے مرض میں مبتلا 29 سالہ پاکستانی نژاد امریکی خاتون شیف فاطمہ علی گذشتہ ہفتے انتقال کر گئی تھیں۔فاطمہ علی نے ٹاپ شیف ٹی وی شو کے ذریعے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی اور پاکستان  کے لیے فخر کا باعث  بنیں۔ تاہم فاطمہ علی کو گذشتہ برس جولائی میں ان کے ڈاکٹرز کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ کینسر کے مرض میں نہ صرف مبتلا ہیں، بلکہ ان کا مرض ناقابل علاج اسٹیج پر پہنچ چکا ہے،اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ ایک برس تک اس دنیا کی مہمان ہیں۔ فاطمہ علی کو سب سے پہلے 2017 میں کینسر کے مرض کی تشخیص ہوئی تھی، تاہم علاج کے بعد وہ کینسر کے مرض سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ بعد ازاں گشتہ برس ان کی بیماری پھر سے لوٹ آئی اور ناقابل علاج بن گئی۔ ایک سال کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا رہنے کے بعد فاطمہ علی انتقال کر گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *