Wed. Jun 19th, 2019

رمشا کا قاتل پولیس نے گرفتار نہیں کیا!!!!

ملزم آٹھ روز تک ایس ایس پی خیرپور کی سرکاری رہائش گاہ کے ساتھ قائم ایک کمرے روپوش رہا

وڈیروں نے فل فرائ اور ہاف فرائی نہ کرنے کی شرط پر زلفو وسان کو پیش کیا

تحریر : مشتاق سرکی

سندھ پولیس کے کرپٹ افسران کے لیئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وہ کس طرح اپنی سیٹیں بچانے کے لیئے بااثر سیاسی وڈیروں کی غلامی کرتے ہیں

نقیب اللہ قتل کیس کی بعد کافی عرصے تک کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیس مقابلوں میں “کمرشل بریک” لگ گیا تھا
لیکن سندھ کے نئے آئی جی کلیم امام نے پنجاب سے آتے ہی سندھ پولیس کے افسران کو متعدد میٹنگز میں بار بار جرائم پیشہ عناصر کو مقابلوں میں فل فرائی اور ہاف فرائ کرنے کے احکامات دیئے
کلیم امام پنجاب میں بھی فل فرائئ اور ہاف فرائئ پالیسی کو فروغ دیتے رہے ہیں

پولیس کے اعلیٰ افسران کے مطابق نئے آجی نے تو ٹوک الفاظ میں تمام فیلڈ افسران کو کہ رکھا تھا کہ کوئی بھی دو مقدموں میں مطلوب ملزم اگر پولیس گرفتار کرتی ہے تو اس کواپنے پاؤں پر چلتے ہوئے عدالت میں پیش نہ کیا جائے اس کو کم از کم ہاف فرائی کرکے جیل بھیجا جائے تاکہ معاشرے سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ ہوسکے

آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور کے اصول اور دلیری وہاں آکر دم توڑ گئی جب معصوم رمشا کو قتل کرنے والے خطرناک ملزم اور پولیس کو سنگین نوعیت والے مقدموں میں مطلوب زلفو وسان کو گرفتار کرنے کی باری آئی

دنیا بھر سے سوشل پریشر آنے کے بعد جہاں سندھ پولیس پریشان ہوگئی وہاں پپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے “عوامی نمائندوں” کی بھی نیندیں اڑ گئیں

ایس ایس پی خیرپور کی آغوش میں سونے والے مفرور ملزم جس پر 17 سے زائد سنگین مقدمات درج ہیں کو گرفتار کرنے کی بجائے پولیس مکمل تحفظ فراہم کررہی تھی

اعلیٰ زرائع کے مطابق وسان برادری کے بااثر ایم این اے اور ایم پی اے نے ایس ایس پی خیرپور کو حکم دے رکھا تھا کہ اگر زلفو وسان کو کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی زمہ دار ضلعی پولیس ہوگی اس دھمکی کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کی بجائے اس کی حفاظت کرنا شروع کردی

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جعلی مقابلوں کی ماہر خیرپور پولیس اور فل فرائی ہاف فرائی میں شہرت رکھنے والے ایس ایس پی خیرپور عمر طفیل خطرناک ملزم اور ضلع میں تمام جرائم کی سرپرستی کرنے والے ملزم زلفو وسان کو جہنم واصل کردیتا مگر پولیس ملزم کو “دولہا” بنا کر منظر عام پر لے آئی

سندھ پولیس کی ڈٹھائی کی انتہا تو یہ ہے کہ وڈیروں کی طرف سے گفٹ میں دیئے گئے “خطرناک مطلوب ملزم” کو اپنی کامیابی قراردے کر فخر کیا جا رہا ہے

عوامی حلقوں میں ملزم کی “شاہی گرفتاری” کے بعد تشویش پائی جاتی ہے شبہ ہے کہ ملزم ایک بار پھر جلد جیل سے رہا ہوکرکسی اور “معصوم رمشا” سے جینے کا حق چھین لے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *