Wed. Jun 19th, 2019

سندھ کے محکمہ روینیو کے ماتحت کلفٹن میں قائم سب رجسٹرار-II آفس میں کرپشن کا راج

شہری کو اپنی جائداد کے سب پاور کے لئے ایک ہی آ فس میں چار ملازمین کو رشوت دینی پڑی جائیدادوں کی منتقلی کے لئے جانے والے شہریوں سے جائز کاموں کے لئے بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کا سلسلہ جاری وڈیو میں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ سب رجسٹرار کے جونئیر کلرک مظہر راجپر نے شہری کو جائداد کی منتقلی کی سپر ارجنٹ، ارجنٹ سمیت تین کیٹیگریز بتائیں اور رشوت کی مد میں شہری سے پینتیس ہزار روپے وصول کیے۔ فائیل کی رسید جاری کرنے والا کلرک بھی دھڑلے سے خرچی مانگ رہا ہے اور شہری سے صرف رسید جاری کرنے کے ایک ہزار روپے وصول کر لیے۔ فائیل کو ایک ٹیبل سے دوسری ٹیبل تک پہنچانے کے لئے آفس پیون کی جیب بھی گرم کرنا ضروری ہے۔ شہری جب تین جگہوں پر رشوت دے کر جانے لگا تو ایک اور کلرک نے کام ادھورا ہونے کی نشاندھی کی اور نادرا ویری فکیشن کی مد میں شہری سے پیسے لیے ۔ رشوت دینے کے کئی روز گزرنے کے باوجود فائیل ٹرانسفر نہ ہوئی تو شہری نے سب رجسٹرار اسماعیل راہپوٹو سے ملاقات کی جس نے شہری سے رشوت کم دینے کا شکوہِ کیا۔ ذرائع کے مطابق وڈیو میں نظر آنے والے مظہر راجپر اور آفس پیون کے علاوہ باقی دوسرے ملازمین سرکاری ملازم ہی نہیں ہیں۔ ان غیر سرکاری اور پرائیوٹ ملازمین کو سب رجسٹرار اسماعیل راہپوٹو نے خصوصی طور پر شہریوں سے رشوت لینے اور سیٹنگ کرنے کا ٹاسک دے کرآفس میں بٹھایا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے کرپٹ مافیا کے خلاف کارروائی کرنے اور ان کو سخت سے سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *