Mon. May 27th, 2019

امن پاکستان سے پھیلے گا

پاکستان کی حقیقی بنیاد ’’جیو اور جینے دو‘‘ ہے۔ 1947 سے لے کر اب تک کسی بھی دور حکومت میں ’’پاکستان‘‘ نے جارحانہ پالیسی نہیں اپنائی، بلکہ خطے کے امن و خوشحالی کے لیے اپنی حدود اور وسائل میں رہتے ہوئے ہر ممکن اقدامات کیے اور ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کے ساتھ دنیا بھر سے مثالی روابط رکھنے کی راہیں تلاش کیں، لیکن اس نے اسرائیل اور بھارتی غنڈہ گردی کو کبھی تسلیم نہیں کیا کہ دونوں ممالک ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کی تذلیل اور حقوق انسانی سے بغاوت کرتے ہوئے بے گناہوں کا خون بہارہے ہیں، پاکستان ’’امن، ترقی اور خوشحالی‘‘ کے لیے صرف ایسی تحریکوں کا حامی ہے، جس میں انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کی جائے۔ انسانی جانوں کا نقصان ہو اور نہ کسی قسم کا نسلی یا مذہبی تعصب پایا جائے۔کشمیر اور فلسطین میں بھارت اور اسرائیل اس اصولی بنیاد پر پورے نہیں اترتے۔
پاکستان اور پاکستانیوں نے ہمیشہ کشمیر و فلسطین کے نہتے عوام کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیلی و بھارتی درندگی اور ظلم وستم کی مذمت کرکے حق و سچ کی آواز بلند کی، پاکستان کسی بھی حال میں کشمیر کو بھولا اور نہ بھارتی ظلم و ستم پر خاموش ہوا، اس کا روز اول سے مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوںکو وہ حق خوارادیت ملنا چاہیے جس کا وعدہ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے کشمیریوں سے کیا تھا اور اقوام متحدہ میں پوری دنیا کو یقین دہانی کرائی تھی۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کو اس لیے بھی تسلیم نہیں کرتا کہ حضرت قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا، لہٰذا اس کے بغیر تکمیل پاکستان ممکن نہیں۔ کشمیری بھارتی ناانصافیوں اور فوجی جارحیت کے خلاف سر دھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔ آزادی کی تحریک موجودہ دور میں خاصی مضبوط ہوچکی ہے، کیونکہ بھارت نے گذشتہ سات دہائیوں میں ان پر فوج کشی کرکے ظلم ڈھائے، بے گناہوں کا قتل عام کیا، بچوں بوڑھوں اور خواتین سے ایسا ناروا سلوک کیا کہ اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا، بھارت نے عسکری طاقت کے بل بوتے پر کشمیر میں امن قائم کرنے کی ناکام کوشش کی، کٹھ پتلی حکومتوں اور پٹھوں کی مدد سے وہاں غیر حقیقی انداز میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میںتبدیل کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی، لیکن نتائج ’’دہلی سرکار‘‘ کی خواہش کے مطابق نہیں نکل سکے کہ دھونس، دھاندلی اور طاقت کے زور پر کبھی کسی کے دل نہیں جیتے جاسکتے۔ 
ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے باوجود آج بھی تحریک آزادی بھارتی فوج کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ کشمیری گولیوں، لاٹھیوں اور آنسو گیس کی بوچھاڑ میں بھی ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے سبزہلالی پرچم لہرا رہے ہیں، دنیا پر ظاہر ہوچکا کہ آزادی کشمیر کی تحریک کو بھاری بھرکم بھارتی فوج اور جدید ہتھیار بھی نہیں دباسکتے، لہٰذا بھارت کو افغانستان میں امریکی مسلط کردہ جنگ کی ناکامی سے سبق سیکھنا چاہیے، جہاں امریکا بہادر اربوں ڈالرز کے بجٹ اور عالمی اتحادیوں کے تعاون کے باوجود بھی مقامی طالبان سے نہیں جیت سکا، اسے مجبوراً طالبان سے معاہدے کے لیے مذاکرات کی 
میز پر بیٹھنا پڑا۔ دنیا جان چکی ہے کہ مسائل و مشکلات کا حل جنگیں ہرگز نہیں، یہی وجہ ہے کہ تمام تر مخالفتوں اور ’’ڈومور‘‘ کے مطالبے کے باوجود ’’امریکا بہادر‘‘ کو امن کی تلاش میں صرف اس لیے پاکستان سے تعاون کی بھیک مانگنی پڑی کہ خطے میں امن کا مرکز صرف پاکستان ہے، جس نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان برداشت کیا، بلکہ ہر سطح پر قربانیاں دینے کے لیے اب بھی تیار ہے۔ اس کی بنیادی حکمت عملی اور پالیسی جنگ و جدل سے نہیں، ترقی و خوشحالی کی خواہش سے عبارت ہے، اس کے عملی کردار اور اقدامات میں بھی بھارت کی طرح تضاد نہیں، بلکہ وہ دنیا بھر میں بدامنی پھیلانے والے دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز اپنا ٹھوس موقف رکھتا ہے۔
بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جب کہ حقیقت کو پرکھنے کی کوشش کریں تو عیاں ہوجائے گا، کشمیر میں وہ ہمیشہ سے کٹھ پتلی حکومتوںکے ذریعے آزادی کے متوالوں پر ظلم روا رکھا ہوا ہے، کوئی بھی بھارتی وزیراعظم یا صدر اپنے مظالم کے ردعمل پر آج تک وادی میں کرفیو کے بغیر نہیں جاسکا، پھر بھی ان حکمرانوںکو شدید مخالفت، احتجاج اور مظاہروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ کشمیری ہر بھارتی حکمران کی وادی آمد پر یوم سیاہ منانا اپنا فرض سمجھتے ہیں، لہٰذا تمام کشمیری رہنمائوں کو گھروں میں نظربند اور اہم ترین افراد کو گرفتار کرلیا جاتا ہے، ان مظاہروں سے نمٹنے کے لیے بھارتی فوج کشمیریوں پر گولیاں برساتی ہے اور کشمیری ان کے سامنے سینہ سپر ہوکر جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ یہ ناقابل فراموش مناظراور وطن پرستی کی انتہا کو دیکھتے ہوئے بھارتی افواج کے بہت سے اہلکار مایوسی کا شکار ہیں، درجنوں نے خودکشی کرکے موت کو گلے لگالیا، کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعظم فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی ایک سے زیادہ مرتبہ مودی سرکار کو ہوش 
کے ناخن لینے کا مشورہ دے چکے، لیکن بھارتی حکمران کشمیریوں سے مذاکرات کو اپنی پسپائی اور جگ ہنسائی سمجھتے ہوئے بات چیت سے یہ مسئلہ حل کرنا نہیں چاہتے۔ 
حالانکہ پاکستان کا دوٹوک موقف ناصرف کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا ہے بلکہ وہ خطے کے امن، خوشحالی اور غربت کے خاتمے کے لیے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو اولیت بھی دیتا ہے جب کہ بھارت مذاکرات سے کنارہ کشی کرتا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں بھی حقیقی رکاوٹ ’’مسئلہ کشمیر‘‘ ہے، لہٰذا اسے کسی بھی سطح پر پاکستان، بھارت اور حقیقی متاثرین کشمیریوںکی معاونت سے حل کیا جائے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بنیاد بناکر کشمیریوں کو انصاف فراہم کیا جائے، تاکہ خطے میں پُرامن ماحول پروان چڑھ سکے، لیکن بھارتی حکومت ہر دور میں مذاکرات کا اعلان کرنے کے باوجود ’’کشمیر‘‘ کو ایجنڈے میں رکھنے کے بجائے فرار کو ترجیح دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور مختلف سفارتی سطح پر مکروہ بھارتی چہرہ بے نقاب کیا، تاہم جب تک بھارتی حکمران حقائق کا ادراک صدق دل سے نہیں کریں گے، مسئلہ کشمیر حل ہوگا نہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبایا جاسکتا ہے۔ 
بھارت اقوام عالم میں جمہوری چیمپئن تو بنتا ہے، لیکن دنیا جانتی ہے کہ وہ غربت و افلاس کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں لاکھوں لوگ فٹ پاتھ پر پیدا ہوکر وہیں مرجاتے ہیں، وہاں انسانی حقوق اور انسانی روایات پر قدم قدم پر ڈاکہ مارا جارہا ہے جب کہ ’’پاکستان‘‘ نے محدود وسائل میں رہتے ہوئے اپنی دھرتی کو امن کا گہوارہ مالی اور جانی نقصان اٹھاکر بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر مخالفتوںکے باوجود امریکا بہادر نے افغانستان میں جاری بدامنی کے خاتمے کے لیے پاکستان سے مدد مانگی، پاکستان حقائق شناس ہے، اس نے ہر مرحلے میں ’’افغانستان‘‘ کے استحکام کو پاکستان کا استحکام قرار دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *