Thu. Jul 18th, 2019

حکومت کی توانائی ٹیم غلط ’’ٹریک‘‘ پرہے!

ٹھیک ہے جرأت انکار نہیں ہے لیکن
ہم تیری بات پہ پہلو تو بدل سکتے ہیں
وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ حالات ٹھیک ہوتے تو حج مفت کر دیتا۔ اس حکومت کا یہی المیہ ہے، ان کے پاس پختہ سوچ کی کمی ہے۔ اوپر سے یہ تبدیلی کے مسیحا بھی بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کو واضح موقف اختیار کرنا چاہیے تھا کہ حج پر سبسڈی نہیں دی جا سکتی، شرعاً اجازت نہیں۔ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے، جن پر فرض نہیں ہے ان کے مقبول حج ماں باپ کی صورت میں گھروں میں موجود ہیں۔ وزیر مذہبی امور کے کہنے پر اسلامی نظریاتی کونسل نے سبسڈی کا راستہ نکال دیا تھا۔ بھلا ہو وزیراعظم کے ساتھ بیٹھے سرخوں کا، وہ وزیراعظم کا ووٹ لے اڑے وگرنہ پتا نہیںکتنے ہی وزیر، مشیر اور سیکرٹری اس بہانے جنت میں گھر بنوا چکے ہوتے۔ مزے کی بات ہے کہ ان میں سے ہر کوئی زندگی کے عشق میں مبتلا ہے۔ اسٹیوجاب نے بھی یہی کہا تھا کہ جنت میں سب جانا چاہتے ہیں مگر کوئی مرنے کو تیار نہیں ہے۔
بات حکومت کی ہو رہی تھی۔ ان کی معلومات ہر شعبے میں ناقص ہیں۔ وزیراعظم دی ہوئی معلومات کو کاؤنٹر چیک نہیں کرتے۔ اسی لیےانہیںبعض اوقات یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔ چلیں اپوزیشن میں تو بہانہ ہوتا ہے، حضور آج تو آپ خود حکومت ہیں۔ وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں وگرنہ حج فری کر دیتا۔ حضور آپ حج پر حالات کی وجہ سے سبسڈی نہیں دے رہے تو بڑے بڑے سیٹھوں کو گیس پر 78 ارب کی سبسڈی کیوں دیے جا رہے ہیں۔ 36 ارب تو آپ کی حکومت تسلیم کرتی ہے۔ آپ دیکھیں تو سہی یہ کہاں تک جاتی ہے، 26 ارب کے قریب تو 8 ماہ کیلئے تھے، وہ بھی پچاس فیصد ایل این جی اور پچاس فیصد لوکل گیس تھی۔ یعنی ایل این جی 1460 کے بجائے انہیں 780 روپے پر ملتی ہے۔ دوسری گیس کا ریٹ تو ویسے ہی 650 روپے فی بی ٹی یو ہے۔ 4 مہینے صرف ایل این جی کے ہیں۔ 12 ارب روپے اس میں اور شامل کر لیں۔ مگر جناب جب بات غریبوں کی ہے تو پھر آپ کے پاس خزانے میں پیسے نہیں ہیں۔ زیرو ریٹڈ انڈسٹری کے پاس کیپٹو پاور (گیس سے بجلی پیدا کرنے) کے کنکشن ہیں، ان کی اکثریت کے پاس تھرڈ کلاس جنریٹر ہیں۔ ان کی کارکردگی پر کئی سوالات ہیں۔ بنیادی طور پر یہ گیس ہڑپ کرنے والی بلائیں ہیں۔ حکومت چاہے تو سیٹھوں کو بجلی کی مد میں دی جانے والی گیس سے زیادہ بجلی انتہائی کم قیمت پر پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سیٹھ پراسیسنگ کیلئے ملنے والی گیس کو بھی ’’مس یوز‘‘ کر کے بجلی ہی پیدا کرتا ہے۔ وہ انڈسٹریل ریٹ پر کیوں بجلی نہیں خریدتا؟ حضور یہ کہاں ہوتا ہے کہ آپ امتیازی سبسڈی اپنے مخصوص سیٹھوں کو ہر سال دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہے، کبھی کسی نے اس کے بارے میں سوچا، کوئی اسٹڈی یا تحقیق کرائی ہے؟ ان سیٹھوں کا سب سے پہلے ’’ہیٹنگ آڈٹ‘‘ کرایا جائے۔ یہی ہیٹنگ آڈٹ جنکوز اور آئی پی پیز کا ہونا چاہیے۔ ایک عرصہ سے خوفناک تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کی مشینوں یا جنریٹر کی کارکردگی کا پتا تو چلے کہ وہ ایک بی ٹی یو گیس، فرنس یا ڈیزل پر کتنی بجلی پیدا کرتا ہے؟ اس کی اصل لاگت کیا ہے اور کیوں نہ آپ کے فراڈ یونٹ بند کر دیے جائیں۔ گزشتہ دس سال میں دو حکومتیں اس پتھر کو چوم کر رکھ چکی ہیں، تیسری بھی اسی راستے پر ہے۔ آج 63 فیصد 
کارکردگی والی ٹربائن پاکستان میں نصب ہو رہی ہیں، پھر ہم 15 سے 25فیصد کارکردگی کے حامل یونٹ کیوں برداشت کر رہے ہیں؟ یہ سیاستدانوں، بابوؤں کی ملی بھگت سے کھربوں روپے کی گیس اور کھربوں روپے ہڑپ کر چکے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کھاد سیکٹر کا فراڈ اور سبسڈی کب ختم ہو گی۔اس کے بارے میں کس نے سوچنا ہے؟ ایسی اطلاعات گردش میں ہیں کہ سیکرٹری پاور عرفان علی ہر بار وزیراعظم کو غلط معلومات دے آتے ہیں، وزیراعظم کو ہر بات کی تحقیق کرنی اور یہ پتا بھی لگانا چاہیے کہ ’’ڈسکوز‘‘ (بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لائن لاسز) گیس کمپنیوں کے یو ایف جی (غیر تخمینہ شدہ گیس) کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ وزیر پٹرولیم اور سیکرٹری پٹرولیم کو ان حقائق کا علم ہے کہ پیسکو، کیپکو، آئیسکو، فیسکو، لیسکو، گیپکو، میپکو، سیپکو، حیسکو اور کے الیکٹرک کے لائن لاسز 300 ارب سے اوپر کے ہیں۔ یہ لینڈ آرڈر ریلیف لے اڑتے ہیں۔ 21 فیصد لائن لاسز تو آن دی ریکارڈ ہیں، آف دی ریکارڈ یہ ہے کہ یہ اپریل، مئی، جون میں دبا کر اوور بلنگ کرتے ہیں۔ اپنے 35فیصد سے اوپر کے لائن لاسز کو نیچے لے کر آتے ہیں۔ پھر جولائی، اگست، ستمبر، اکتوبر میں اوور بلنگ کا امپیکٹ صارفین کو 
واپس کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر اعداد و شمار کی جادوگری ہے۔ اگر یہ لائن لاسز حقیقی ہوں تو کسی بھی صورت 500 ارب سے کم نہیں ۔ ہے کوئی جو محترم وزیراعظم کو تصویر کا اصل رُخ دکھائے؟ رہی گیس کمپنیوں کی بات تو جو 50 ارب کے نقصانات وزیراعظم کو بتائے جا رہے ہیں، اس کو وہ دیکھیں کیا ہے؟ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پرانا ہے، بطور خاص سوئی ناردرن کا۔ اس کا یو ایف جی جس میں لائن لاسز اور چوری دونوں ہوتے ہیں وہ 7.7 فیصد ہیں۔ پانچ فیصد اوگرا کا بینچ مارک ہے، 5فیصد نقصانات کو اوگرا صارفین سے وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بقیہ 7.7 میں 1.9 فیصد کرک وغیرہ کے نقصانات ہیں، جہاں پر 95فیصد گیس چوری ہے۔ یہ جناب وزیراعظم کے محبوب صوبے کے زیرانتظام اضلاع میں تقریباً گیارہ سال سے ہو رہا ہے، جس میں جناب کی حکومت کے چھ سال بھی ہیں۔ یہ ہے آپ کے اس صوبے کی گورننس۔ 1.9فیصد کا مطلب تقریباً سوا چار ارب روپے کا نقصان، یہاں لوگوں کی براہ راست چوری کی وجہ ہے۔ سوئی نادرن یہ نقصان 10 ارب کا کلیم کرتی ہے۔ اس کا کل یو ایف جی اعشاریہ 8 فیصد بنتا ہے یعنی وہ ایک ارب 88 کروڑ روپے کے خسارے میں ہے جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی میں یو ایف جی 23فیصد سے بھی اوپر ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں وہاں تباہی در تباہی ہوئی ہے۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر کے بہنوئی خالد رحمٰن جن دو لوگ باہر سے لے کر آئے، ان کی گیس مارکیٹنگ کمپنیوں کے بارے میںمعلومات صفر ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ’’مفتا‘‘ اسماعیل شاہد خاقان عباسی کے ناک کا بال تھے، وہ اس کمپنی کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ زوہیر صدیقی گئے تو یو ایف جی 8.7فیصد پر تھا، پھر تقریباً ساڑھے چار سال میں 23 فیصد تک جا پہنچا۔ 36 ارب سے اوپر کے لاسز بنتے ہیں، وہ بھی اوگرا کا پانچ فیصد نکالنے کے بعد۔ کمپنی کے کیریئر آفیسر جان بوجھ کر ٹارگٹ کیے گئے، ایک آفیسر عرفان ظفر تھے۔ وہ چھ سال سے یونیورسٹی روڈ کے ایک کمرے میں ڈمپ ہیں، انہیں ہیڈ آفس میں آنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ کیا کیریئر آفیسر تھا؟ جس آدمی کو بھی کمپنی کا درد تھا اس کو نشان عبرت بنا دیا گیا، باقی سب ’’مفتا‘‘ اسماعیل کلب کا حصہ بن گئے۔ خالد رحمٰن نے فطرت کے مطابق رنگ دکھایا تو انہیں ایم ڈی ہونے کے باوجود کئی سال ہیڈ آفس میں گھسنے نہیں دیا۔ وہ پی ایس او میں بیٹھتے رہے۔ آج خاقان عباسی قوم کو قانون، اخلاقیات کا درس پڑھاتے ہیں۔ وامق بخاری نے پی پی ایل میں یہی کچھ کیا، کئی کو نشان عبرت، ساتھ مل جانے والوں کو ڈبل ترقیاں اور مراعات ملیں۔
بات سوئی سدرن کی ہو رہی 
تھی۔ حضور جس کمپنی کو ٹھیک کرنا تھا وہاں پر وہی ماحول ہے، ابھی تک شاہد خاقان عباسی اور ’’مفتا‘‘ اسماعیل کی روح کا وہاں پر راج اور قبضہ ہے۔ وزیراعظم صاحب، آپ اور آپ کی توانائی ٹیم مکمل طور پر غلط ٹریک پر ہیں۔ سب سے بڑی خرابی پاور ڈویژن اور ڈسکوز میں ہے، یہ دو حکومتوں کو ہڑپ کر گئے۔ جناب وزیر اعظم پاور اور پٹرولیم ڈویژن میں بہتری کے لیے محنتی اور دیانتدار ٹیم لے کر آئیں۔ تیسری رہ گئی وزارت پانی۔ چھ ماہ قبل روسی سرمایہ کاروں نے مہمند ڈیم بی ٹو بی آفر کیا، انہیں مبینہ طور پر چیئرمین واپڈا نے منع کر دیا۔ رہ گئے وزیر، تو روسی ان سے 4 مہینے سے وقت مانگ رہے ہیں، ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ البتہ ان کے پاس روزانہ چار ٹی وی چینلز پر جانے کا وقت ضرور ہے۔ تو خان صاحب، یہ ہے آپ کی ٹیم اور یہ ہے ان کا قبلہ، جو درست نہیں ہے۔ کرا لیں جو آپ نے آپریشن کرانا ہے۔ خرابی سسٹم میں ہے مگر پہلے جنہوں نے سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے، انہیں ٹھیک کریں ۔ 4 سال 4 ماہ پلک جھپکنے میںگزر جائیں گے، خدشہ ہےکہ یہ آپ کو الفاظ کے گورکھ دھندے میں الجھائے رکھیں گے۔
جب تلک قوت تخیل ہے
آپ پہلو سے اٹھ نہیں سکتے
(فہمی بدایونی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *