Wed. Jul 17th, 2019

’یہ وقت ہے تحمل کا‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پلوامہ کے لیے جوابی کارروائی کرنے کے لیے بھارتی فوج کو ’ مکمل آزادی ‘ دینے کا فیصلہ کیا، وہی علامتی اقدام کے طور پر پاکستان سے پسندیدہ ملک ہونے کا درجہ واپس لیتے ہوئے بھارت دھمکی دے رہا ہے کہ وہ پاکستان کو ’علیحدہ‘ کردے گا اور اس کی معیشت کا گلا گھونٹ دے گا، یہ خراب صورتحال پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ناقابل یقین نتائج کے ساتھ تنازع کو بڑھا دے گی۔

پلوامہ ممبئی نہیں ہے، جہاں دہشت گردی کے حملے میں بے گناہ شہریوں کو ہدف بنایا گیا تھا، پلوامہ میں ایک خودکش بمبار نے اس سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا جو حق خود ارادیت کے لیے کشمیریوں کی طویل جدوجہد میں متحرک نوجوانوں کو دبانے کے لیے تعینات تھی۔

ممبئی کے بعد بھارتی حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور فوجی ردعمل سے گریز کیا اور اس کے بجائے بین الاقوامی برادری کے پاس گیا تاکہ دہشت گردوں کے مبینہ طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کے لیے پاکستان کو پس پشت ڈال دیا جائے، تاہم اس مرتبہ جب یہ واضح ہے کہ یہ مقامی کارروائی تھی، نئی دہلی جنگ کا سہارا لے رہا ہے، پاکستان اس تباہی سے بچنے کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے جو بھارتی کارراوائی سے جنوبی ایشیا میں ہوسکتی ہے۔

اولین اور اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستان کو بغیر اشتعال انگیزی کے کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ تیاری خود سے آگے بڑھنے میں اضافہ کرے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کوئی بھی قابل عمل معلومات کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارتی کی جانب سے ایک سنجیدہ جواب کی ضرورت ہے اور یقیناً پاکستان کی طرف سے بھی اس عمل میں خلوص ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان بین الاقوامی، دوطرفہ اور اقوام متحدہ میں ہر سطح پر مضبوط سفارتکاری میں مصروف ہے اور اسے ضرور جاری رکھنا چاہیے۔

اگر بھارت کے ساتھ رسمی سفارتی چینل مفلوج ہوگئے ہیں تو یہاں ہمیشہ غیر رسمی رابطوں کے لیے جگہ موجود ہوتی ہے، بھارت میں پہلے ہی پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کی حکمت عملی ترک کرنے سے متعلق سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور تقریباً اس بات کا تعقب کر رہے ہیں کہ فوجی طاقت سے کوئی حل نہیں لاسکتی، یہاں تک کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حمایتی رہنما پالیسی میں تبدیلی کی تلاش میں ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر پی 5 اور تمام بڑی طاقتوں اور دوستوں کے ساتھ ہماری مصالحت کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے ہونی چاہے، اس طرح کی مصالحت سے صورتحال بہتر کرنے میں مدد ملے گی، اس کے علاوہ دنیا کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لینا چاہیے، جس کا ذکر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جموں اور کشمیر پر جاری رپورٹ میں کیا گیا تھا اور جس سے کشمیری نوجوان خاص طور پر نئی نسل کی جانب سے وسیع پیمانے پر مظاہروں اور احتجاج کو بڑھا دیا تھا کیونکہ مایوسی تشدد پیدا کرتی ہے۔

پاکستان ان کے ساتھ ہمدردری رکھتا ہے اور کشمریوں کی جدوجہد کی حمایت کرتا ہے، ہماری مشترکہ تاریخ، مشترکہ ورثہ اور نسب کے صدیوں کے جذباتی تعلقات ہیں لیکن یہ کہنا کہ مقبوضہ کشمیر میوں موجودہ تشدد جیسے کہ پلوامہ واقعہ پاکستان کی جانب سے اسپانسر کیا گیا تھا یہ نہ صرف زمینی حقائق بلکہ پاکستان کی پالیسی کی بنیادی منطق کو نظرانداز کرتے ہیں۔

ماضی میں ہونے والے ہر پرتشدد واقعہ چاہے وہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہو یا ممبئی حملہ یا پٹھان کوٹ اور اڑی کے واقعات انہیں زیادہ تر بھارت کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا گیا، ان تمام اقدامات نے کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کو نقصان پہنچایا اور پلوامہ سے پاکستان کو کوئی بھی قابل فہم فائدہ کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

یہ دلیل کہ ماضی میں پاکستان کی پالیسی تھی کہ وہ غیر ریاستی عناصر جیسے کالعدم جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کی حمایت کرتا تھا، اسے پاکستان تاریخ کے بوجھ کے طور پر دیکھتا ہے جیسے دیگر ممالک کی جانب سے ماضی میں بوجھ ڈالا جاتا تھا، اس صورتحال نے پاکستان کو بہت زیادہ متاثر کیا اور دہشت گردی سے لڑتے ہوئے ہمارے ہزاروں سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا اور ہزاروں عوام نے بھی جانوں کا نظرانہ پیش لیا، ہم اب بھی اس نامکمل معاملے میں ہیں لیکن ہم نے اس خطرناک چیلنج پر قابو پالیا اور ملک میں خودمختار مسلح گروپ کا خاتمہ کیا، تاہم پاکستان کو اپنے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنا چاہیے۔

انتہا پسندی نے گریٹر مشرق وسطیٰ کو تباہ کردیا ہے، نظریات، سیاست اور معاشی مضطوبی کے ساتھ اس رجحان کی ایک پیچیدہ تاریخ ہے جو اب گھٹتی جارہی ہے، پاکستان میں اس سے قبل اتنا واضح کبھی نہیں ہوا، دہشت گردی عالمگیر نفرت کو فروغ دیتی ہے لیکن کشمیریوں کو جدوجہد آزادی دہشت گردی کے خدشات کے باعث یرغمال نہیں ہوسکتی، جیسا کہ افغان طالبان کو دہشتگردوں کا روپ دینے میں مدد دی اور وہ اپنے قیمتی نقطہ نظر سے قطع نظر ہوکر افغانستان کے سیاسی منظر نامے کا حصہ بن گئے ہیں۔

بہت سارے سیاسی مبصرین کا یہ خیال ہے کہ کشیدگی بھارتی جنتا پارٹی کے انتخابی مقاصد کے لیے سود مند ہے تاہم بھارت کو لازمی طور پر خطے کا مستقبل اور امن کو خطرے پر ڈالنے کے لیے سیاسی مصلحت کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

ادھر افغانستان سے متعلق ہونے والی حالیہ پیش رفت نے اس امید کو اجاگر کیا ہے کہ ملک بالآخر 4 دہائیوں سے جاری جنگ کے خطرے سے باہر نکلنے جارہا ہے، پاکستان پر امن اور مستحکم افغانستان دیکھنا کا خواہش مند ہے اور خطے میں تعلقات اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کررہا ہے، تاہم پاکستان اور بھارت کی کشیدگی اس امکان کو کم کرسکتے ہیں۔

قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ ایک قدم بڑھائیں، ہم دو قدم آگے آئیں گے‘، یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ان کا انتخاب پاکستانی حکومت میں ایک منفرد تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے کہ جب ملک میں سیاسی اور عسکری قیادت مضبوط اور نمایاں طور پر ایک ہی صفحے پر ہیں، وہ بھارت کے ساتھ امن کے حصول اور ایک بہتر، تعاون پسند علاقائی ماحول میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور اگر کوئی جارحیت کا سامنا ہوتا ہے تو یہ پوری قوم کے ساتھ ایک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جارحیت کی گئی تو بھارت کو حیران کردیں گے، پاک فوج

جوہری دور میں یہ بات طے ہے کہ جوہری لڑائی ناقابل تصور ہے، لہٰذا یہ دونوں جوہری پڑوسیوں کے لیے بھی ناقابل تصور ہے کہ وہ اس تنازع کے آغاز کریں جو کنٹرول سے باہر نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، دونوں ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ تنازع کو بڑھاوا دینے کے بجائے اسے روکے اور منظم کریں، اس کے علاوہ آج کل ذرائع ابلاغ کو دیکھنا تکلیف دہ ہے کیونکہ وہ نفرت کی آگ کو بڑھاوا دے رہا ہے۔

بھارت سے کشمیریوں اور پاکستانیوں کے خلاف نفرت آمیز جذبات بڑھنے کی رپورٹس آرہی ہیں، لہٰذا دنوں ممالک میں قیادت، دانشوروں، عوامی رائے قائم کرنے والوں کی یہ فوری ذمہ داری ہے کہ وہ اس عمل کو روکنے اور مصیبت کے ماحول میں کچھ تحمل لانے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

اس تحریر کے لکھاری پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *