Wed. Jun 19th, 2019

’پاک-بھارت کشیدگی پر تشویش ہے، بھارتی پائلٹ کی رہائی کے فیصلے کو سراہتے ہیں‘

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے لکسمبرگ کے وزیر خارجہ جین اسیلبورن بھی وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی جذبہ غیر سگالی کے تحت رہائی کے معترف ہوگئے اور کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے جذبے کو سراہتے ہیں۔

اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے لکسمبرگ کے وزیر خارجہ جین اسیلبورن کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی اور مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس اہم ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، اس دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملاقات میں پاکستان کے یورپین یونین میں مفادات اور ان سے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر بات چیت ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ لکسمبرگ کے وزیر خارجہ کو ایف اے ٹی ایف سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا اور خطے کی حالیہ صورتحال پر بھی پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔

پلوامہ حملے کے بعد کی صورتحال سے متعلق شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ لکسمبرگ کے وزیر خارجہ کو پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے کی گئی کوششوں کے بارے میں بتایا۔

اس موقع پر لکسمبرگ کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ ماضی میں بھی لیکسمبرگ نے اظہار یکجہتی کیا خاص طور پر 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان کے تعاون کی کوشش کی۔

افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی پر انہوں نے کہا کہ ان مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن جاری مشن کی لکسمبرگ حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے مستقبل میں اقتصادی اور معاشی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے، اس کے علاوہ پناہ گزینوں کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جین اسیلبورن نے کہا کہ پاکستان اور لکسمبرگ کے درمیان تذویراتی تعاون کا منصوبہ حتمی مراحل میں ہے اور پاکستانی وفد سے ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

لکسمبرگ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے واقعے اور 2 بھارتی جہاز کو گرانے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ خطرناک کشیدگی پر پوری عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے جذبے کو سراہتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

مہمان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا اس وقت مختلف تنازعات میں گھری ہوئی ہے اور کوئی بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلح کشیدگی نہیں چاہتا، میں اور یورپی یونین پاکستان اور بھارت کے درمیان انسداد دہشت گردی پر بات چیت کے لیے معاونت کرنے کو تیار ہیں۔

افغانستان کے معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کا سب سے اہم پڑوسی ہے اور افغان امن عمل میں پاکستان کا سب سے اہم کردار ہے، یہ خطے میں امن کے پھیلاؤ کا ایک بہترین موقع ہے، لہٰذا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بھی مذاکرات جلد از جلد شروع ہونے چاہئیں تاکہ مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔

لکسمبرگ کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کی جانب افغان طالبان اور امریکا کے درمیان بات چیت میں کردار ادا کرنے کو سراہتے ہیں اور شاہ محمود قریشی سے کہا ہے کہ افغان امن عمل کی حمایت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اس عمل کو جاری رکھا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *