Wed. Jul 17th, 2019

وزیراعظم کاپورا نام عمران احمد خان نیازی لکھنے سے منع کرنے کا آرڈرکیوں جاری کیاگیا؟

آپ حکومت کی بدقسمتی دیکھئے ملک میں جہاں بھی کوئی انتشار کوئی فساد نظر آتا ہے اس کے پیچھے سے پی ٹی آئی نکل آتی ہے‘ ہندو کمیونٹی کے بارے میں کس نے کیا فرمایا تھا اور یہ کون ہیں‘ یہ پی ٹی آئی کے ٹائیگر ہیں‘ عمران خان نے ان کو ہٹا کر اپنا غلط فیصلہ درست کر دیا‘ لوگ وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں‘کل وزیر خزانہ اسد عمر نے بلاول بھٹو کے خلاف جو کچھ کہا قوم حیرت سے ملک کے اہم ترین وزیر کی طرف دیکھ رہی ہے، یہ الفاظ کسی جونیئر منسٹر یاعامایم این اے کے منہ سے نکلے ہوتے تو لوگ شاید برداشت کر جاتے لیکن یہ بات ملک کے اہم اور سنجیدہ ترین وزیر نے کہی چنانچہ لوگ اسے ہضم نہیں کر پا رہے‘ بلاول بھٹو نے ٹویٹر پر اس کا جواب دے دیا‘ ان کا کہنا ہے‘ جنرل عمر کی اولاد کو ہمیں غیرت کا لیکچر نہیں دینا چاہیے‘ بلاول بھٹو نے کیبنٹ ڈویژن کا وہ آرڈر بھی پوسٹ کر دیا جس میں حکم جاری کیا گیا تھا، وزیراعظم کو ان کے پورے نام عمران احمد خان نیازی کی بجائے صرف عمران خان لکھا جائے‘ اس ٹویٹ کا کیا مطلب ہے‘ اس کا مطلب ہے وزیر خزانہ نے خود جان بوجھ کر اپنی بے عزتی کرا لی‘ آپ صرف ایشو پر رہیں‘ آپ کو دوسروں کو نام تبدیل کرنے کے مشورے دینے کی کیا ضرورت ہے‘ آپ خود آ بیل مجھے مار کی دعوت کیوں دیتے ہیں اور آج کا تازہ ترین واقعہ‘ آج سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی‘ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے ارکان نے ایم ایم اے کے واحد رکن سید عبدالرشید کو اسمبلی کے فلور پر مارنا شروع کر دیا‘ سید عبدالرشید کا جرم یہ تھا انہوں نے پی ٹی آئی کے رکن اور اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کی جسارت کر دی‘ آپ اس لہجے اس رویئے اور اس انتشار کے ساتھ کتنی دیر حکومت چلا لیں گے‘ حکومت کو بہرحال سنجیدہ ہونا پڑے گا ورنہ یہ حرکتیں پورے ملک کو لے کر بیٹھ جائیں گی۔ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، میاں نواز شریف کی طبیعت مزید بگڑ گئی مگر انہوں نے ہسپتال جانے سے انکار کر دیا‘ وزیراعظم نے پہلی بار ان کیلئے مناسب علاج کا حکم جاری کر دیا‘ کیا نواز شریف یہ پیشکش قبول کر لیں گے اور ملک کے اندر موجود نان سیریس نیس مزید کتنا عرصہ چلے گی‘ یہ دونوں نقطے ہمارے آج کے پروگرام کا ایشو ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *